25 فروری 2012 - 20:30

امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کے سابق مشیرجیبگینیوبرژینسکی نےکہاہے کہ واشنگٹن کواسلامی جمہوریہ ایران کےساتھ جنگ کی صورت میں ہولناک قیمت چکانی پڑےگی ۔

ابنا: برژینسکی نےسی این این کوانٹرویودیتے ہوئے کہاکہ واشنگٹن کو نہ صرف یہ کہ ایران پرحملہ نہيں کرناچاہئے بلکہ اسرائیلی حکومت کوبھی ایران پرفوجی حملے سےروکناچاہئے۔

برژینسکی نے مزید کہاکہ ہمیں اس جنگ میں شامل ہونے کی ضرورت نہيں ہے بلکہ اسرائیلیوں کےلئے بھی اس کی وضاحت پیش کرنی چاہئے۔

امریکہ کےاس سیاسی تجزیہ نگار نے امریکہ اور پورے علاقے پراس طرح کےحملے کےنتائج کی جانب بھی اشارہ کیا۔

واضح رہے کہ امریکہ اورصہیونی ریاست نےگذشتہ کچہ ہفتوں سے ایران مخالف جنگ پسندانہ بیانات تیز کردیے ہیں جس کامقصد ایٹمی پروگرام روکنےکےلئے اسلامی جمہوریہ ایران پر دباؤ میں اضافہ کرناہے۔ایران کی ایٹمی تنصیبات پر فوجی حملے کی دھمکیاں ، پابندیوں کاحربہ ناکام ہوجانےکےبعد سامنےآرہی ہيں۔

امریکہ اور صہیونی ریاست سمیت اس کےاتحادی ایران کےایٹمی پروگرام میں انحراف کاالزام لگارہےہيں جبکہ تہران کی ایٹمی سرگرمیاں، پوری طرح ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کی نگرانی میں جاری ہیں۔....... /169